About Us

بسم اللہ الرحمن الرحیم

صدیوں پہلے گمراہی کے اندھیروں میں عرب کا چاند طلوع ہوا۔ حق آیا ۔ باطل مٹا۔
وہ شمع اجالا جس نے کیا چا لیس برس تک غاروں میں
اک روز چمکنے والی تھی کل دنیا کے درباروں میں
اس نور مجسم کے آنے سے ہر طرف نور پھیل گیا۔ دین کی تکمیل فرما کر اپنے پیچھے ایک ایسی
جماعت چھوڑ گئے جن سے اللہ راضی ہوا۔ وہ اللہ سے راضی ہوئے۔اس راہنما نے ظاہر کی
راہنمائی فرمائی ۔باطل کے اسرار واکئے۔
کوسئین کے مقام پر پہنچے ۔ اللہ کے رازوں کے امین ہوئے۔دوست دشمن ہر کسی کی زبان
پہ جاری ہوا آپ صادق ہیں ۔آپ امین ہیں۔آپ کو اللہ کی طرف سے جو کچھ پہنچانے کا حکم ہوا۔
پورا پورا پہنچایا۔ غیوب کے سر بستہ امور کھول دئیے۔ اللہ پاک نے فرمایا “یہ غیب بتانے پر بخیل
نہیں”
آپ کے وصال کے بعد آپ کے اصحاب رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین نے تفویض شدہ
امانت کی خوب حفاظت فرمائی۔ آئندہ نسل تک منتقل کیا۔
قرآن پاک میں مختلف عبادات کا ذکر ہے۔ بعض کی ترغیب دی۔ بعض کو لازم قرار دیا۔
چندعبادات کا طریقہ بیان فرمایا۔ بعض کی تفصیل کو رسول اللہ ﷺ پر چھوڑ دیا۔
اللہ پاک نے اپنے ذکر کا حکم قرآن پاک میں بار بار فرمایا۔ اسکے انعامات کا تذکرہ ہوا۔
البتہ ذکر خفی کا تذکرہ اور تفصیلی طریقہ بھی عطا فرمایا۔نبی پاک ﷺ نے خود بھی اسی طریقہ پر ذکر
فرمایا۔ اصحاب کو بھی یہی طریقہ سکھایا ۔ سورت الاعراف کی آیت نمبر205میں اس کا مکمل بیان
ہے۔
“اور اپنے نفس میں اپنے رب کو یاد کرو۔ عاجزی اور خوف کے ساتھ۔ آواز نکالے بغیر۔
صبح و شام اور غافل نہ ہونا”۔
یہی طریقہ نبی پاک ﷺ سے نسل در نسل منتقل ہوا۔صدیق اکبر کے ذریعہ جو سلسلہ رواں
دواں ہوا اس کی عرف عام میں پہچان سلسلہ نقشبندیہ کے نام سے ہے۔
نسل در نسل چلنے والا یہ سلسلہ نہایت معزز محترم اور پاکیزہ ہستیوں کو منتقل ہوتا رہا۔مجدد الف
ثانی رحمتہ اللہ سے ہوتا ہوا چورہ شریف پہنچا ۔ چورہ شریف کے بابا جی فقیر محمد رحمتہ اللہ علیہ کے
ذریعہ سارے پاک ہند میں پھیلا۔ بابا جی فقیر محمد رحمتہ اللہ کا فیض پاک بابا جی حسن محمد گجراتی ،
صاحبزادہ غلام دستگیر گجراتی رحمتہ اللہ علیہ کے توسط سے بانی گلزار مدینہ بابا جی محمد علی نقشبندی رحمتہ
اللہ کے ہاں جلوہ گر ہوا۔
بابا جی محمد علی رحمتہ اللہ نے اپنے خلوص اور ریاضت سے اسے نکھارا ۔ اپنے مرید خاص جناب صوفی
غلام قادر رحمتہ اللہ علیہ کو عطا فرمایا۔ صوفی صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے جو اپنے مرشد کامل کے عین
عکس تھے۔ اس فیض پاک کو دور دور تک پھلایا۔ آج کل انکے صاحبزادے جناب صاحبزاد ہ غلام
صدیق احمد نقشبندی یہ فرض ادا فرما رہے ہیں۔